سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں
خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں یہ کس ہوا سے ہمارے چراغ جلتے ہیں جہاں اترتا ہے وہ ماہتاب پانی میں وہیں کنارے کنارے چراغ جلتے ہیں تمام روشنی سورج سے مستعار نہیں کہیں کہیں تو ہمارے چراغ جلتے ہیں تمہارا عکس ہے یا آفتاب کا پرتو یہ خال و خد ہیں کہ پیارے چراغ جلتے ہیں عجیب رات اتاری گئی محبت پر ہماری آنکھیں تمہارے چراغ جلتے ہیں مری نگاہ سے روشن نگار خانۂ حسن مرے لہو کے سہارے چراغ جلتے ہیں نہ جانے کون سی منزل ہے منتظر آزرؔ کہ رہ گزر میں ستارے چراغ جلتے ہیں
ٹوٹ کر نیند نے آنکھوں کا بھرم توڑ دیا
ٹوٹ کر نیند نے آنکھوں کا بھرم توڑ دیا صبح کے شور میں اک خواب نے دم توڑ دیا پھینک کر سنگِ خموشی کسی دیوانے نے گنگناتی ہوئی ندی کا ردھم توڑ دیا اک صدی بیچ سے غائب ہوئی آوازوں کی ماترے گِنتے ہوئے وقت نے سم توڑ دیا میرے رستے کے علاوہ بھی کئی رستے تھے کیوں قدم رکھ کے مرا نقشِ قدم توڑ دیا اُس نے پوچھا کہ کوئی آخری خواہش آزر میں نے اک نام لکھا اور قلم توڑ دیا
ہم نے غزلوں میں تمہیں ایسے پکارا محسن
ہم نے غزلوں میں تمہیں ایسے پکارا محسن جیسے تم ہو کوئی قسمت کا ستارا محسن اب تو خود کو بھی نکھارا نہیں جاتا ہم سے وہ بھی کیا دن تھے کہ تجھ کو بھی سنوارا محسن اپنے خوابوں کو اندھیروں کے حوالے کر کے ہم نے صدقہ تیری آنکھوں کا اتارا محسن ہم کو معلوم ہے اب لوٹ کے آنا تیرا نہیں ممکن یہ مگر پھر بھی خدارا محسن ہم تو رخصت کی گھڑی کو بھی نہ سمجھے محسن سانس دیتی رہی ہجرت کا اشارہ محسن اس نے جب جب بھی مجھے دل سے پکارا محسن میں نے تب تب یہ بتایا کے تمہارا محسن لوگ صدیوں کے خطائوں پہ بھی خوش بستے ہیں ہم کو لمحوں کی وفاؤں نے اجاڑا محسن ہو گیا جب یہ یقین اب وہ نہیں آئے گا آنسو اور غم نے دیا دل کو سہارا محسن وہ تھا جب پاس تو جینے کو بھی دل کرتا تھا اب تو پل بھر بھی نہیں ہوتا گزارا محسن اسکو پانا تو مقدر کی لکیروں میں نہیں اسکو کھونا بھی کریں کیسے گوارہ محسن