دلاور علی آزر

اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)

28 December 2025

14سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں

خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں یہ کس ہوا سے ہمارے چراغ جلتے ہیں جہاں اترتا ہے وہ ماہتاب پانی میں وہیں کنارے کنارے چراغ جلتے ہیں تمام روشنی سورج سے مستعار نہیں کہیں کہیں تو ہمارے چراغ جلتے ہیں تمہارا عکس ہے یا آفتاب کا پرتو یہ خال و خد ہیں کہ پیارے چراغ جلتے ہیں عجیب رات اتاری گئی محبت پر ہماری آنکھیں تمہارے چراغ جلتے ہیں مری نگاہ سے روشن نگار خانۂ حسن مرے لہو کے سہارے چراغ جلتے ہیں نہ جانے کون سی منزل ہے منتظر آزرؔ کہ رہ گزر میں ستارے چراغ جلتے ہیں

— دلاور علی آزر

ٹوٹ کر نیند نے آنکھوں کا بھرم توڑ دیا

ٹوٹ کر نیند نے آنکھوں کا بھرم توڑ دیا صبح کے شور میں اک خواب نے دم توڑ دیا پھینک کر سنگِ خموشی کسی دیوانے نے گنگناتی ہوئی ندی کا ردھم توڑ دیا اک صدی بیچ سے غائب ہوئی آوازوں کی ماترے گِنتے ہوئے وقت نے سم توڑ دیا میرے رستے کے علاوہ بھی کئی رستے تھے کیوں قدم رکھ کے مرا نقشِ قدم توڑ دیا اُس نے پوچھا کہ کوئی آخری خواہش آزر میں نے اک نام لکھا اور قلم توڑ دیا

— دلاور علی آزر

ہم نے غزلوں میں تمہیں ایسے پکارا محسن

ہم نے غزلوں میں تمہیں ایسے پکارا محسن جیسے تم ہو کوئی قسمت کا ستارا محسن اب تو خود کو بھی نکھارا نہیں جاتا ہم سے وہ بھی کیا دن تھے کہ تجھ کو بھی سنوارا محسن اپنے خوابوں کو اندھیروں کے حوالے کر کے ہم نے صدقہ تیری آنکھوں کا اتارا محسن ہم کو معلوم ہے اب لوٹ کے آنا تیرا نہیں ممکن یہ مگر پھر بھی خدارا محسن ہم تو رخصت کی گھڑی کو بھی نہ سمجھے محسن سانس دیتی رہی ہجرت کا اشارہ محسن اس نے جب جب بھی مجھے دل سے پکارا محسن میں نے تب تب یہ بتایا کے تمہارا محسن لوگ صدیوں کے خطائوں پہ بھی خوش بستے ہیں ہم کو لمحوں کی وفاؤں نے اجاڑا محسن ہو گیا جب یہ یقین اب وہ نہیں آئے گا آنسو اور غم نے دیا دل کو سہارا محسن وہ تھا جب پاس تو جینے کو بھی دل کرتا تھا اب تو پل بھر بھی نہیں ہوتا گزارا محسن اسکو پانا تو مقدر کی لکیروں میں نہیں اسکو کھونا بھی کریں کیسے گوارہ محسن

— محسن نقوی